بنگلورو،21؍جون(ایس او نیوز)دریائے کاویری کے میکے ڈاٹو ڈیم تعمیر کرنے کے لئے حکومت کرناٹک کی کوششوں میں تمل ناڈو کی طرف سے رکاوٹ کھڑی کرنے کی کوششوں پر روک لگا کر اگرمرکزی حکومت نے میکے ڈاٹو میں ڈیم کی تعمیر کے لئے فوراً منظوری نہیں دی تو یہ کرناٹک کے ساتھ دغا کرنے کے مترادف ہو گا۔ یہ بات اتوار کے روز سابق وزیر اعلیٰ ایچ ڈی کمارسوامی نے کہی۔
انہوں نے ٹوئٹ کیا کہ تمل ناڈو کی طرف سے ایک بار پھر میکے ڈاٹو میں کرناٹک کی طرف سے اپنے حصہ میں آنے والے کاویری کے پانی کے استعمال کے لئے ڈیم تعمیر کرنے کی تیاری میں رکاوٹ کھڑی کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس منصوبہ سے بنگلورو کے عوام کو پینے کا پانی فراہم کیا جاسکتا ہے، اس لئے تمل ناڈو حکومت کو اس میں رکاوٹ نہیں ڈالنی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ تمل ناڈدو کے سابق وزیر اعلیٰ اور اے آئی اے ڈی ایم کے لیڈر پلنی سوامی کی طرف سے مرکزی حکومت پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے کہ کسی بھی حال میں کرناٹک کو میکے ڈاٹ پر ڈیم تعمیر کرنے کی اجازت نہ دی جائے۔
انہوں نے کہا کہ پلنی سوامی نے اعلان کیا ہے کہ اس پراجکٹ کو روکنے کے لئے وزیر اعظم مودی پر دباؤ ڈالا جائے گا۔ اگر ایسا ہوا اورمرکزی حکومت اپنی حلیف سیاسی جماعت کے دباؤ میں آگئی اور میکے ڈاٹ پراجیکٹ کو منظوری دینے سے انکار کردیا تو یہ کرناٹک کے ساتھ بہت بڑا دھوکہ ہو گا۔انہوں نے کہا کہ اس پراجکٹ کے لئے ماحولیاتی منظوری کے لئے ان کے دور اقتدار میں مرکزی حکومت سے گزارش کی گئی تھی لیکن اب تک اس کے لئے منظوری نہیں دی گئی ہے۔اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ اس پراجیکٹ کے بارے میں مرکزی حکومت کی نیت صاف نہیں ہے۔ کمارسوامی نے کہا کہ کرناٹک کے مفادات کی مرکزی سطح پر نمائندگی کرنے میں کرناٹک سے منتخب بی جے پی کے 25اراکین پارلیمان بری طرح ناکام ہو چکے ہیں۔
قومی تعلیمی پالیسی میں علاقائی زبان کنڑا کو نظر انداز کر دئیے جانے پر تبصر ہ کرتے ہوئے کمارسوامی نے کہا کہ گجراتی، بنگالی، مراٹھی، اڑیہ اور تمل زبانوں کو فوقیت دی گئی ہے لیکن کنڑا کو نظرانداز کردیا گیا ہے۔ مرکزی حکومت کے اس رویہ کے خلاف سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر احتجاج کرنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت نے ہر بار کرناٹک کے مفادات کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی ہے اور بار بار کرناٹک نے اس کی طرف سے ہونے والی ناانصافی کو برداشت کیا ہے لیکن اب خاموش رہنے کا سوال ہی نہیں اٹھتا۔